بازی گر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - تماشا یا کرتب دکھانے والا، شعبدہ باز، نٹ، بھانمتی۔ "یہودی ایک معمولی بازی گر تھا۔"      ( ١٩٠٤ء،مقالات شبلی، ١٩٦:١ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر باختن سے حاصل مصدر 'بازی' کے ساتھ فارسی لاحقۂ فاعلی 'گار' کی تخفیف 'گر' لگنے سے 'بازی گر' مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تماشا یا کرتب دکھانے والا، شعبدہ باز، نٹ، بھانمتی۔ "یہودی ایک معمولی بازی گر تھا۔"      ( ١٩٠٤ء،مقالات شبلی، ١٩٦:١ )